السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1340. -- باب: طوبى لمن طال عمره وحسن عمله
-- باب: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہوئی اور اس کے عمل اچھے ہوئے
حدیث نمبر: 6530
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَلَاثٍ بَقِينَ أَوْ نَحْوَهُ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ لَهِيعَةَ، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَحَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيِّ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا مَعًا، وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الْآخَرِ، فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ، قَالَ طَلْحَةُ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ فِي النَّوْمِ، إِذْ أَنَا بِهِمَا، فَخَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّةِ فَأَذِنَ لِلَّذِي مَاتَ الْآخِرَ مِنْهُمَا، ثُمَّ رَجَعَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْنِ لَكَ، فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ فَحَدَّثَ النَّاسَ فَعَجِبُوا؛ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" مِنْ أِيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الَّذِي كَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا، فَاسْتُشْهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَدَخَلَ الْآخَرُ الْجَنَّةَ قَبْلَهُ، قَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ فَصَامَهُ"؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا مِنْ سَجْدَةٍ فِي السَّنَةِ"؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ". تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ «بَلِيّ» سے دو آدمی اکٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اکٹھے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے ایک نیکی میں محنت کرنے والا تھا، وہ ایک مرتبہ غزوے میں شریک ہوا اور شہید ہو گیا۔ اس کے بعد دوسرا ایک سال زندہ رہا، پھر وہ بھی فوت ہو گیا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک مرتبہ خواب میں ہم جنت کے دروازے کے پاس تھے کہ میں نے دیکھا کہ میں ان دونوں کے ساتھ ہوں تو جنت میں سے ایک نکلنے والا نکلا، اس نے ان دونوں میں سے اسے اجازت دے دی جو بعد میں فوت ہوا تھا۔ پھر وہ پلٹا اور اسے اجازت دی جو شہید ہوا تھا۔ پھر وہ میری طرف پلٹا اور اس نے کہا: ”تو پلٹ جا ابھی تیرا وقت نہیں آیا۔“ صبح ہوئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو لوگوں نے اس پر تعجب کیا اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس بات پر تم تعجب کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ان دونوں میں سے زیادہ محنت کرنے والا تھا اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید بھی ہوا مگر جنت میں بعد میں داخل ہوا اور بعد میں جانے والا پہلے داخل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس کے بعد ایک سال زندہ نہیں رہا اور اس نے رمضان کا مہینہ پایا اس کے روزے رکھے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سال میں اس نے کتنے سجدے کیے؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو ان کے درمیان آسمان و زمین کی دوری پیدا ہوگئی (اجر میں)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6530]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6530 in Urdu