🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1341. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ الرَّبِيعُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ بَحْرٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَوْعُوكٌ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَوَجَدَ حَرَارَتَهَا فَوْقَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا أَشَدَّ حَرَّ حُمَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا كَذَلِكَ يُشَدَّدُ عَلَيْنَا الْبَلَاءُ، وَيُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ" ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْعُلَمَاءُ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ الصَّالِحُونَ، كَانَ أَحَدُهُمْ يُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يَلْبَسُهَا، وَيُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ، وَلَأَحَدُهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِالْبَلَاءِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِالْعَطَاءِ".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخار کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا تو چادر (کمبل) کے اوپر سے تپش کو محسوس کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے بخار کی تپش کس قدر زیادہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہماری تکالیف یونہی سخت ہوتی ہیں اور ہمارا اجر بھی دو گنا ہوتا ہے۔“ پھر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تمام لوگوں میں سے سخت تکلیف میں کون لوگ ہوتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء۔“ انہوں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر علماء۔“ انہوں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر صالحین؛ ان میں سے ایک محتاجی سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ صرف ایک چادر ہی پاتا ہے جسے وہ پہنتا ہے اور جوؤں سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اسے ہلاک کر دیتی ہیں، اور ان میں سے کوئی آزمائش پر اس سے زیادہ خوش ہوتا تھا جتنا تم میں سے کوئی عطا (نعمت) کے حصول پر خوش ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6533]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6533 in Urdu