السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. -- باب: في مس الأنثيين
-- باب: خصیوں کو چھونے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 654
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبِي يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ رِفْغَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ فَرْجَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ". وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ وَهْمٌ ⦗٢١٧⦘ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ:" وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا وُضُوءَ فِي الْمَسِّ وَإِنَّمَا اتَّبَعْنَا السُّنَّةَ فِي إِيجَابِهِ بِمَسِّ الْفَرْجِ فَلَا يَجِبُ بِغَيْرِهِ".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ کے والد فرماتے تھے: جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتیں یا اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرے۔
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ چھونے سے وضو نہیں ہے اور ہم نے شرمگاہ کو چھونے سے وضو واجب ہونے میں سنت کی اتباع کی ہے، لہٰذا اس کے علاوہ کسی چیز سے وضو واجب نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 654]
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ چھونے سے وضو نہیں ہے اور ہم نے شرمگاہ کو چھونے سے وضو واجب ہونے میں سنت کی اتباع کی ہے، لہٰذا اس کے علاوہ کسی چیز سے وضو واجب نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/148»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 654 in Urdu