السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1341. -- باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات
-- باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ الْمُعَنَّى قَالَا: ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَنَلْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ"، زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ" ثُمَّ صَبَرَ عَلَى ذَلِكَ"، ثُمَّ اتَّفَقَا،" حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابراہیم سلمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی صحبت پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بیشک بندے کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ لکھا جاتا ہے مگر انسان اپنے اعمال سے اس تک نہیں پہنچ پاتا، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے جسم، مال، اولاد کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں۔“ ابن نفیل نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں: ”پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے،“ اس بات میں وہ دونوں متفق ہیں: ”یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس مقام پر پہنچاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے جا چکا ہوتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6545]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6545 in Urdu