السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1345. -- باب: المريض يقول: وارأساه، أو إني وجع، أو اشتد بي الوجع
-- باب: بیمار کا یہ کہنا کہ ”ہائے میرا سر“ یا ”میں درد میں مبتلا ہوں“ یا ”میری تکلیف بڑھ گئی ہے“
حدیث نمبر: 6568
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ مَحْفُوظٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" وَارَأْسَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرَ لَكِ وَأَدْعُوَ لَكِ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلِتَاهْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ لَظَلَلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ أَنَا وَارَأْسَاهْ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ فَأَعْهَدَ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ، ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ، أَوْ يَدْفَعُ اللهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ". لَفْظُ حَدِيثِ جَعْفَرٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میرا سر!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیرے ساتھ ایسا ایسا ہوا (تو فوت ہوگئی) اور میں زندہ ہوا تو میں تیرے لیے بخشش طلب کروں گا اور تیرے لیے دعا کروں گا۔“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہائے میں گم جاؤں! اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ آپ میرے مرنے کو پسند کرتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو آپ اسی دن کے آخری حصے میں اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ شبِ زفاف منا رہے ہوں گے۔“ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ میرا اپنا سر (تکلیف میں ہے) اور میرا ارادہ ہے کہ میں سیدنا ابوبکر اور ان کے بیٹے رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجوں اور ان سے معاہدہ کراؤں، تاکہ کہنے والے کچھ نہ کہیں اور خواہش کرنے والے خواہش نہ کریں؛ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے اور مومن اس کو ٹھکراتے ہیں، یا فرمایا: مومن ٹھکراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6568]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6568 in Urdu