السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. -- باب وقوع الدباغ بالقرظ أو ما يقوم مقامه
-- باب: ببول کے پتوں یا اس کے قائم مقام اشیاء سے دباغت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 66
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفْلِسِ - وَأَنَا سَأَلْتُهُ - ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ حَامِدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا هِيَ دُبِغَتْ تُرَابًا، أَوْ رَمَادًا، أَوْ مِلْحًا، أَوْ مَا كَانَ بَعْدَ أَنْ يَزِيدَ صَلَاحُهُ، أَوْ يُزِيلَ الشَّكَّ عَنْهُ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا مُنْكَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَمَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ السَّمَرْقَنْدِيُّ يَكْنِي أَبَا مُعَاذٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردار کی کھال سے فائدہ اٹھاؤ، جب اس کو مٹی، راکھ یا نمک سے دباغت دی جائے یا ایسی چیز سے جو اس کو درست کر دے یا جب اس سے شک زائل ہو جائے۔“
(ب) ابو احمد کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔
(ج) معروف بن حسان سمرقندی جس کی کنیت ابو معاذ ہے منکر الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
(ب) ابو احمد کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔
(ج) معروف بن حسان سمرقندی جس کی کنیت ابو معاذ ہے منکر الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه لهذا اللفظ الدار قطني 1/49»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 66 in Urdu