السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1361. -- باب: ما يستحب من وضع شيء على بطنه، ثم وضعه على سرير أو غيره لئلا يسرع انتفاخه
-- باب: میت کے پیٹ پر کوئی چیز رکھنے، پھر اسے چارپائی یا کسی اور چیز پر رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان تاکہ وہ جلدی پھول نہ جائے
حدیث نمبر: 6610
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا أَبُو الْمُنِيبِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ آدَمَ قَالَ: مَاتَ مَوْلًى لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ مَغِيبِ الشَّمْسِ، فَقَالَ أَنَسٌ:" ضَعُوا عَلَى بَطْنِهِ حَدِيدَةً".
عبداللہ بن آدم کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا غلام شام کے وقت فوت ہوا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے پیٹ پر لوہے کی کوئی چیز رکھو۔
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6610]
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک مرتبہ میت کے پیٹ پر تلوار رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ اس ڈر سے رکھی جاتی ہے کہ وہ پھول نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6610]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6610 in Urdu