السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1366. جماع أبواب غسل الميت -- باب: ما يستحب من غسل الميت في قميص
میت کو غسل دینے کے ابواب کا جامع بیان -- باب: میت کو قمیص میں (قمیص پہنے ہوئے) غسل دینے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6621
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" لَمَّا أَرَادُوا غُسْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفَ الْقَوْمُ فِيهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَوْ نُغَسِّلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَأَلْقَى الله عَلَيْهِمُ السِّنَةَ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا نَائِمٌ ذَقْنُهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا يَدْرُونَ مَا هُوَ: اغْسِلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَغَسَّلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ عَلَيْهِ وَيُدَلِّكُونَهُ مِنْ فَوْقِهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" وَايْمُ اللهِ، لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ"..
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کا ارادہ کیا گیا تو قوم نے اختلاف کیا۔ کچھ نے کہا: کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس اتاریں جیسے ہم اپنے فوت ہونے والوں کا لباس اتارتے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں غسل دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ نازل کردی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی بھی نہیں تھا مگر نیند کی وجہ سے اس کی ٹھوڑی اس کی چھاتی کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور گھر کے کونے میں سے ایک کہنے والے نے کہا (اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے): ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دو اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے آپ کے جسدِ اطہر پر ہوں۔“ پھر انہوں نے آپ کو غسل دیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر تھی اور اس پر وہ پانی ڈال رہے تھے، اوپر سے ہی مل رہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اللہ کی قسم! اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے وہ علم ہوتا جو بعد میں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے سوا کوئی غسل نہ دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6621]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6621 in Urdu