السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1368. -- باب: ما يؤمر به من تعاهد بطنه وغسل ما كان به من أذى
-- باب: میت کے پیٹ کو دبانے (صاف کرنے) اور اس سے نکلنے والی نجاست کو دھونے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6626
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" غَسَّلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ لِأَنْظُرَ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَكَانَ طَيِّبًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَمَيِّتًا، وَوَلِي دَفْنَهُ وَإِجْنَانَهُ دُونَ النَّاسِ أَرْبَعَةٌ: عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، وَالْفَضْلُ، وَصَالِحٌ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلُحِدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْدٌ أَوْ نُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا۔ میں نے چاہا کہ جو عام میت کے ساتھ گندگی وغیرہ ہوتی ہے، وہ دیکھوں تو میں نے کچھ بھی نہ پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ بھی پاکیزہ تھے، فوت ہونے کے بعد بھی پاکیزہ تھے اور لوگوں کو چھوڑ کر چار آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن اور قبر میں اتارنے کی ذمہ داری سنبھالی: علی، عباس، فضل اور صالح رضی اللہ عنہم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد تیار کی گئی اور اینٹیں نصب کی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6626]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزاز»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6626 in Urdu