السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1371. -- باب: ما يغسل به الميت وسنة التكرار في غسله
-- باب: جن چیزوں سے میت کو غسل دیا جائے اور اس کے غسل میں تکرار کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6633
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّهُ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي" فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ". وَقَالَ أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ:" ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ" قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا یا اس سے زیادہ مرتبہ بھی اگر ضرورت محسوس ہو۔ پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخر میں کافور لگانا یا کچھ کافور اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔“ سو جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک چادر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اسے اس کے جسم کے ساتھ لپیٹ دو“ اور یہ بھی فرمایا: ”تین، پانچ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ اگر ضرورت محسوس ہو۔“ وہ کہتی ہیں اور ہم نے اس کے سر کی تین مینڈھیاں کیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6633 in Urdu