السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1376. -- باب: من يكون أولى بغسل الميت
-- باب: میت کو غسل دینے کا زیادہ حق دار کون ہے
حدیث نمبر: 6657
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَبَا جَعْفَرٍ، قَالَ:" غُسِّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا بِالسِّدْرِ، وَغُسِّلَ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ، وَغُسِّلَ مِنْ بِئْرٍ يُقَالُ لَهُ الْغَرْسُ بِقُبَاءَ كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ مِنْهَا، وَوَلَّى سُفْلَتَهُ عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ مُحْتَضِنُهُ وَالْعَبَّاسُ يَصُبُّ الْمَاءَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَقُولُ:" أَرِحْنِي، قَطَعْتَ وَتِينِي، إِنِّي لَأَجِدُ شَيْئًا يَتَرَطَّلُ عَلَيَّ".
محمد بن علی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین مرتبہ بیری کے ساتھ غسل دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا گیا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قمیض تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قباء کے کنویں غرس کے پانی سے غسل دیا گیا جو سیدنا سعد بن خثیمہ رضی اللہ عنہ کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پانی پیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے حصے (کو غسل دینے) کی ذمہ داری سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سنبھالی اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پانی بہا رہے تھے اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کہہ رہے تھے: مجھے آرام دو، تم نے تو میری شہ رگ کاٹ دی، مجھے اپنے اوپر کوئی بوجھل چیز محسوس ہو رہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6657]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ عبد الرزاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6657 in Urdu