السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. -- باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث
-- باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 668
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا عَلِيٌّ أَبُو الْحُسَنِ بْنُ زَاطِيَا، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ الدِّمَشْقِيِّ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ الْوُضُوءُ مِنَ الرُّعَافِ، وَالْقَيْءِ، وَمَسِّ الذَّكَرِ، وَمَا مَسَّتِ النَّارُ بِوَاجِبٍ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ" فَقَالَ: إِنَّ قَوْمًا سَمِعُوا وَلَمْ يَعُوا، كُنَّا نُسَمِّي غَسْلَ الْيَدِ وَالْفَمِ وُضُوءًا وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ، وَإِنَّمَا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَغْسِلُوا أَيْدِيَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ تَكَلَّمُوا فِيهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نکسیر، قے، شرمگاہ کو چھونے اور جس (چیز) کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو کرو۔“ انہوں نے کہا: لوگوں نے سنا تو ہے لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔ ہم ہاتھوں کو دھونے اور منہ کے دھونے کا نام وضو رکھا کرتے تھے اور یہ واجب نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کو حکم دیا کہ آگ پر پکی چیزوں سے اپنے ہاتھ اور منہ دھوئیں اور یہ واجب نہیں ہے۔
مطرف بن مازن پر (محدثین نے) کلام کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 668]
مطرف بن مازن پر (محدثین نے) کلام کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير 134»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 668 in Urdu