السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. -- باب: ترك الوضوء من خروج الدم من غير مخرج الحدث
-- باب: جائے حدث کے علاوہ کسی اور جگہ سے خون نکلنے پر وضو ساقط ہونے (نہ ٹوٹنے) کا بیان
حدیث نمبر: 670
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: ⦗٢٢٣⦘ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ، أَوْ قَلَسَ، أَوْ وَجَدَ مَذْيًا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلِيَرْجِعْ فَلْيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهٍ، مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ" قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، فَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ لَيْسَتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ بِثَابِتَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَهُ مَعَ مَا رُوِيَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَغَيْرِهِ عَلَى غَسْلِ بَعْضِ الْأَعْضَاءِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ مَرَّةً هَكَذَا مُرْسَلًا كَمَا رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ وَهُوَ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: فِيمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا كَانَا يَرْعَفَانِ فَيَتَوَضَّآنِ، وَيَبْنِيَانِ عَلَى مَا صَلَّيَا فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُمَا لَمْ يَكُونَا يَرَيَانِ فِي الدَّمِ وُضُوءًا وَإِنَّمَا مَعْنَى وَضُوئِهِمَا عِنْدَنَا غَسْلُ الدَّمِ وَمَا ⦗٢٢٤⦘ أَصَابَ مِنَ الْجَسَدِ لَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ غَسَلَ يَدَيْهِ مِنْ طَعَامٍ ثُمَّ مَسَحَ بِبَلَلِ يَدَيْهِ وَجْهَهُ وَقَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَهَذَا مَعْرُوفٌ مِنْ كَلَامِ الْعَرَبِ يُسَمَّى وَضُوءٌ لِغَسْلِ بَعْضِ الْأَعْضَاءِ لَا لِكَمَالِ وُضُوءِ الصَّلَاةِ فَهَذَا مَعْنَى مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرُّعَافِ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَيْسَتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ بِثَابِتَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى هَذَا يُحْمَلُ مَا رُوِيَ عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَيْءِ إِنْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ فِيهِ.
ابن جریج اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قے، سبز رنگ کا پانی یا مذی پائے اور وہ نماز میں ہو تو وہ پھر جائے، وضو کرے اور واپس آکر اپنی گزشتہ نماز پر بنیاد رکھے، جب تک اس نے بات نہ کی ہو۔“
(ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔
(ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں، ثابت نہیں۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے جو روایت کی ہے، اس کو بعض نے اعضا کے دھونے پر محمول کیا ہے۔
(ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے، ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔
(ز) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ ان دونوں کو نکسیر آتی تو وہ وضو کرتے اور جتنی نماز پڑھ چکے ہوتے اسی پر بنا کرتے، تو ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون (نکلنے) سے وضو کے قائل نہیں تھے، لہٰذا ہمارے ہاں ان کے وضو سے مراد خون اور جسم کے جس حصے کو وہ لگا ہو اسے دھونا ہے، نہ کہ نماز والا وضو۔
(س) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو جو بے وضو نہیں ہوا۔“ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو بھی وضو کہتے تھے، صرف نماز کے مکمل وضو کو ہی وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج کی اپنے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت نکسیر کی وجہ سے وضو کرنے کے متعلق ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قے کے متعلق جو روایت ہے، اگر وہ صحیح ہو تو اسے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 670]
(ب) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ابن جریج سے مرسل ہونا صحیح ہے۔
(ج) ابن جریج کی حدیث جو ابن ابی ملیکہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے ہے اور اس کو اسماعیل بن عیاش روایت کرتے ہیں، ثابت نہیں۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن جریج جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں یہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے جو روایت کی ہے، اس کو بعض نے اعضا کے دھونے پر محمول کیا ہے۔
(ر) شیخ کہتے ہیں کہ اس کو اسماعیل بن عیاش مرسل بیان کرتا ہے، ایک جماعت ابن جریج سے محفوظ بیان کرتی ہے اور وہ مرسل ہی ہے۔
(ز) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے جو منقول ہے کہ ان دونوں کو نکسیر آتی تو وہ وضو کرتے اور جتنی نماز پڑھ چکے ہوتے اسی پر بنا کرتے، تو ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ دونوں خون (نکلنے) سے وضو کے قائل نہیں تھے، لہٰذا ہمارے ہاں ان کے وضو سے مراد خون اور جسم کے جس حصے کو وہ لگا ہو اسے دھونا ہے، نہ کہ نماز والا وضو۔
(س) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا کھانے کے بعد دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے ہاتھوں کی تری کو چہرے پر پھیرا اور فرمایا: ”یہ اس شخص کا وضو جو بے وضو نہیں ہوا۔“ عربوں کے کلام میں معروف ہے کہ وہ بعض اعضا دھونے کو بھی وضو کہتے تھے، صرف نماز کے مکمل وضو کو ہی وضو نہیں کہتے تھے۔ ابن جریج کی اپنے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو روایت نکسیر کی وجہ سے وضو کرنے کے متعلق ہے، ہمارے ہاں اس سے یہی مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ شیخ کہتے ہیں: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قے کے متعلق جو روایت ہے، اگر وہ صحیح ہو تو اسے بھی اسی پر محمول کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: « [ضعيف أخرجه الدار قطني [1/153] »
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 670 in Urdu