السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1394. -- باب: الدخول على الميت وتقبيله
-- باب: میت کے پاس جانے اور اسے چومنے کا بیان
حدیث نمبر: 6710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، وَيُونُسُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَتَيَمَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدَةِ حِبَرَةٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ، وَاللهِ لَا يَجْمَعُ اللهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا، أَمَّا الْمُوتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتُّهَا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی، بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سنح میں جو مکان تھا وہاں سے گھوڑے پر آئے، اس سے اترے اور مسجد میں داخل ہو گئے۔ لوگوں سے کوئی کلام نہ کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کیا اور وہ یمنی چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے، پھر بوسہ دیا اور رو دیے۔ پھر انہوں نے کہا: ”میرا باپ آپ پر قربان ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر کبھی دو موتیں وارد نہیں کرے گا سوائے اس موت کے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آچکی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6710]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6710 in Urdu