السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1399. -- باب: الإذخر للقبور وسد الفرج
-- باب: قبروں کے لیے اذخر گھاس (استعمال کرنے) اور سوراخ بند کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6726
وَرَوَى عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ، وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ، وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} [طه: ٥٥] بِسْمِ اللهِ، وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ"، فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ، وَيَقُولُ:" سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ" ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَلَكِنَّهُ يُطَيِّبُ نَفْسَ الْحِيِّ". وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ فَذَكَرَهُ. وَقَدْ رُوِيَ فِي سَدِّ الْفُرْجَةِ بِالْمَدَرَةِ، وَقَوْلُهُ:" أَمَا إِنَّهَا لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَكِنَّهَا تُقِرُّ بِعَيْنِ الْحِيِّ" عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی قبر میں رکھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ [سورة طه: 55] اور فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» اور جب ان پر ان کی لحد بنائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف کھجور کے گابے کو پھینک رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اینٹوں کے خلال کو بند کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں مگر زندہ لوگوں کے دلوں کو اسی سے سکون ہوتا ہے۔“
یہ سند ضعیف ہے۔
اور مکحول کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالی جگہ کو مٹی سے بند کرو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”لیکن یہ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان لیکن اس سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6726]
یہ سند ضعیف ہے۔
اور مکحول کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالی جگہ کو مٹی سے بند کرو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”لیکن یہ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان لیکن اس سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6726]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6726 in Urdu