🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1407. -- باب: من قال بتسنيم القبور
-- باب: اس شخص کا قول جو قبروں کو کوہان نما (اونچا) کرنے کا قائل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6761
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا حَبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ" أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَمَتَى مَا صَحَّتْ رِوَايَةُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قُبُورُهُمْ مَبْطُوحَةٌ بِبَطْحَاءِ الْعَرْصَةِ فَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى التَّسْطِيحِ، وَصِحَّةِ رُؤْيَةِ سُفْيَانَ التَّمَّارِ قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا، فَكَأَنَّهُ غُيِّرَ عَمَّا كَانَ عَلَيْهِ فِي الْقَدِيمِ فَقَدْ سَقَطَ جِدَارُهُ فِي زَمَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَقِيلَ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثُمَّ أُصْلِحَ، وَحَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحُّ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِنَا اسْتَحَبَّ التَّسْنِيمَ فِي هَذَا الزَّمَانِ لِكَوْنِهِ جَائِزًا بِالْإِجْمَاعِ، وَأَنَّ التَّسْطِيحَ صَارَ شِعَارًا لِأَهْلِ الْبِدَعِ، فَلَا يَكُونُ سَبَبًا لِإِطَالَةِ الْأَلْسِنَةِ فِيهِ وَرَمْيِهِ بِمَا هُوَ مُنَزَّهٌ عَنْهُ مِنْ مَذَاهِبِ أَهْلِ الْبِدَعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سفیان تمار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو اونٹ کے کوہان کی مانند دیکھا۔
جب قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی روایت صحیح ہے کہ ان کی قبروں پر صحن کی کنکریاں بچھی ہوئی تھیں تو یہ قبروں کے ہموار ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور سفیان تمار کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو کوہان نما دیکھنا بھی صحیح ہے، تو گویا وہ اپنی پہلی حالت سے بدل دی گئی تھی۔
کیونکہ ولید بن عبدالملک کے دور میں اس کی دیوار گر گئی تھی، اور کہا گیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں، پھر اسے درست کیا گیا۔
اس باب میں قاسم بن محمد رحمہ اللہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے اور محفوظ ہونے کے زیادہ لائق ہے، مگر ہمارے اصحاب (شافعی علماء) میں سے بعض اہل علم نے اس زمانے میں قبر کو کوہان نما بنانا مستحب قرار دیا ہے کیونکہ وہ بالاجماع جائز ہے، اور ہموار بنانا اہل بدعت کی علامت بن چکا ہے، تاکہ یہ میت کے بارے میں زبان درازی کا اور اسے اہل بدعت کے ان مذاہب سے متہم کرنے کا سبب نہ بنے جن سے وہ بری ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6761 in Urdu