السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1413. -- باب: ما يستدل به على أن كفن الميت ومؤونته من رأس المال بالمعروف
-- باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ میت کا کفن اور اس کی دیگر ضروریات دستور کے مطابق اس کے اصل مال سے پوری کی جائیں گی
حدیث نمبر: 6777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادِ ابْنُ بِنْتِ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا جَدِّي، أنبأ أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ عَوْفٍ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ، فَقَالَ:" قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ إِلَّا بُرْدَةٌ يُكَفَّنُ فِيهَا، وَقُتِلَ حَمْزَةُ"، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ،" وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ إِلَّا بُرْدَةٌ يُكَفَّنُ فِيهَا، مَا أَظُنُّنَا إِلَّا قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا حَسَنَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عوف رضی اللہ عنہما کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے مگر ان کے لیے صرف ایک چادر ملی جس میں انہیں کفن دیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے یا کوئی دوسرا، وہ بھی مجھ سے بہتر تھے، ان کے لیے صرف ایک چادر میسر آئی جس میں انہیں کفن دیا گیا۔ میں یہی خیال کرتا ہوں کہ ہماری نعمتیں ہمیں دنیا ہی کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6777]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6777 in Urdu