السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1437. -- باب: من قال الوالي أحق بالصلاة على الميت من الولي
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ حکمران میت کے ولی سے زیادہ نماز جنازہ پڑھانے کا حق دار ہے
حدیث نمبر: Q6894
رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، وَسُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ وَمُجَاهِدٍ، وَسَالِمٍ، وَالْقَاسِمِ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، قَالُوا: الْإِمَامُ يَتَقَدَّمُ، وَيُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَلَا يُثْبَتُ عَنْهُمَا لَكِنَّ الْمَشْهُورَ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
یہ قول علقمہ، اسود، سوید بن غفلہ، عطاء، طاؤس، مجاہد، سالم، قاسم اور حسن بصری رحمہم اللہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”امام آگے کھڑا ہوگا۔“
اور یہ سیدنا علی علیہ السلام اور سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے لیکن ان دونوں سے ثابت نہیں ہے، تاہم یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: Q6894]
اور یہ سیدنا علی علیہ السلام اور سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے لیکن ان دونوں سے ثابت نہیں ہے، تاہم یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے مشہور ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: Q6894]
حدیث نمبر: 6894
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحدثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوٍ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: ⦗٤٦⦘ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: إِنِّي لَشَاهِدٌ يَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَيَطْعَنُ فِي عُنُقِهِ، وَيَقُولُ تَقَدَّمْ فَلَوْلَا أَنَّهَا سُنَّةٌ مَا قُدِّمْتَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أتَنْفِسُونَ عَلَى ابْنِ نَبِيِّكُمْ بِتُرْبَةٍ تَدْفِنُونَهُ فِيهَا، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي".
ابوحازم فرماتے ہیں: جس دن حسن بن علی رضی اللہ عنہما فوت ہوئے تو میں موجود تھا۔ میں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ سعید بن عاص سے فرما رہے تھے کہ: ”آگے بڑھ، اگر یہ سنت نہ ہوتی تو آگے نہ کیا جاتا۔“ اور اس کی گردن کو کچوکے مار رہے تھے اور ان میں کچھ اختلاف تھا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم اپنے نبی کے بیٹے پر مٹی کے اس ٹکڑے کے بارے میں بخل کرتے ہو جس میں تم انہیں دفن کرو گے؟ جب کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6894]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6894 in Urdu