السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1440. -- باب: الجماعة يصلون على الجنازة أفذاذا
-- باب: جماعت کے لوگوں کا جنازے پر الگ الگ نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ⦗٤٩⦘ ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا صُلِّيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أُدْخِلَ الرِّجَالُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ بِغَيْرِ إِمَامٍ إِرْسَالًا حَتَّى فَرَغُوا، ثُمَّ أُدْخِلَ النِّسَاءُ فَصَلَّيْنَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُدْخِلَ الصِّبْيَانُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ ثُمَّ أُدْخِلَ الْعَبِيدُ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ إِرْسَالًا لَمْ يَؤُمَّهُمْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَلِكَ لِعِظَمِ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَتَنَافُسِهِمْ فِي أَنْ لَا يَتَوَلَّى الْإِمَامَةَ فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَاحِدٌ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ مَرَّةً بَعْدَ مَرَّةٍ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کی گئی تو لوگ تھوڑے تھوڑے داخل ہوتے اور بغیر امام کے اکیلے دعا کرتے، یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے۔ پھر عورتیں داخل ہوئیں اور انھوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، پھر بچے داخل ہوئے اور انھوں نے درود پڑھا، پھر غلام داخل ہوئے اور انھوں نے بھی درود پڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے کی کسی نے امامت نہ کروائی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی بات تھی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بار بار درود پڑھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6907]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی بات تھی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، اور اس وجہ سے کہ لوگ اس بات میں نہ پڑیں کہ فلاں نے ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بار بار درود پڑھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6907]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6907 in Urdu