السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1443. -- باب: من كره الصلاة والقبر في الساعات الثلاث
-- باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جنہوں نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور دفن کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6915
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ: أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تُوُفِّيَتْ وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَتِهَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ، قَالَ وَكَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لِأَهْلِهَا" إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَى جِنَازَتِكُمُ الْآنَ، وَإِمَّا أَنْ تَتْرُكُوهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ".
محمد بن ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں اور طارق مدینہ کے امیر تھے، ان کا جنازہ فجر کی نماز کے بعد لایا گیا اور اسے بقیع میں رکھا گیا، اور طارق اندھیرے میں نمازِ فجر پڑھتے تھے۔ ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ان کے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ اب اگر تم جنازہ پڑھ لو تو درست ہے کہ تم اسی وقت جنازہ پڑھو یا پھر سورج بلند ہونے تک انتظار کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6915 in Urdu