🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1446. -- باب: الإمام يقف على الرجل عند رأسه وعلى المرأة عند عجيزتها
-- باب: امام مرد کی نماز جنازہ میں اس کے سر کے پاس کھڑا ہو گا اور عورت کی نماز جنازہ میں اس کے سرین کے سامنے کھڑا ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6923
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ، قَالُوا: جِنَازَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ فَتَبِعْتُهَا فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ، قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَأَنَا خَلْفَهُ لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ لَمْ يُطِلْ وَلَمْ يُسْرِعْ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ كَصَلَاتِكَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو غَالِبٍ فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ فَكَانَ يَقُومُ الْإِمَامُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ.
ابو غالب نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مربد کی گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا جس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے، فرماتے ہیں: وہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ تھا اور میں اس کے پیچھے چلا۔ جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز نہیں تھی وہ ان کے سر کے پاس کھڑے ہوئے اور چار تکبیرات کہیں اور ان کو نہ لمبا کیا اور نہ ہی جلدی کی۔ پھر جا کر بیٹھ گئے تو لوگوں نے کہا: ”اے ابو حمزہ! یہ انصاری عورت ہے“، انہوں نے قریب کیا تو اس پر سبز رنگ کا نعش (پردے والا ڈھانچہ) تھا تو وہ اس کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے اور اسی طرح جنازہ پڑھا جیسے مرد کا جنازہ پڑھا پھر وہ بیٹھ گئے تو علاء بن زیاد نے کہا: ”اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی جنازے پڑھاتے جیسے آپ نے پڑھا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے سر اور عورت کی کمر کے پاس کھڑے ہوتے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“۔۔۔ آگے مکمل حدیث بیان۔
ابو غالب فرماتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے پوچھا جو انہوں نے عورت کے جنازے میں اس کی کمر کے برابر کھڑے ہونے کا کیا تو انہوں نے کہا: وہ اس لیے تھا کہ تب تابوت وغیرہ نہیں ہوتے تھے اس لیے امام قوم سے پردہ کرنے کی خاطر اس کی کمر کے برابر کھڑا ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6923]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابو داؤد»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6923 in Urdu