🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1466. -- باب: الصلاة على القبر بعدما يدفن الميت
-- باب: میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7019
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَعُودُ مَرْضَى مَسَاكِينِ الْمُسْلِمِينَ، وَضُعَفَاءَهَمْ وَيَتْبَعُ جَنَائِزَهَمْ وَلَا يُصَلِّي عَلَيْهِمْ أَحَدٌ غَيْرَهُ، وَأَنَّ امْرَأَةً مِسْكِينَةً مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي طَالَ سَقَمُهَا، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْهَا مَنْ حَضَرَهَا مِنْ جِيرَانِهَا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَدْفِنُوهَا إِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ، فَيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتُوُفِّيَتْ تِلْكَ الْمَرْأَةُ لَيْلًا وَاحْتَمَلُوهَا فَأَتَوْا بِهَا مَع الْجَنَائِزَ أَوْ قَالَ مَوْضِعَ الْجَنَائِزِ عِنْدَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَمَرَهُمْ، فَوَجَدُوهُ قَدْ نَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، فَكَرِهُوا أَنْ يُهْجِدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِهِ فَصَلَّوْا عَلَيْهَا، ثُمَّ انْطَلَقُوا بِهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْهَا مَنْ حَضَرَهُ مِنْ جِيرَانِهَا، فَأَخْبَرُوهُ خَبَرَهَا وَأَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُهْجِدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلِمَ فَعَلْتُمْ؟ انْطَلِقُوا" فَانْطَلَقُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ⦗٨٠⦘ قَامُوا عَلَى قَبْرِهَا، فَصَفُّوا وَرَاءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُصَفُّ لِلصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَائِزِ، فَصَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا كَمَا يُكَبِّرُ عَلَى الْجَنَائِزِ.
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار و مسکین مسلمانوں کی اور کمزوروں کی عیادت کرتے تھے اور ان کے جنازوں کے ساتھ جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی جنازہ نہ پڑھتا۔ ایک مسکین عورت جو مدینہ کے اطراف میں رہتی تھی اس کی بیماری لمبی ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں اس سے پوچھتے جو کوئی اس کے ہمسائے سے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اگر وہ فوت ہوجائے تو مجھے بتائے بغیر دفن نہ کریں، تاکہ اس کا جنازہ پڑھیں۔“ رات میں یہ عورت فوت ہوگئی تو انہوں نے اسے اٹھایا اور جنازے کو ساتھ لائے یا جنازے کی جگہ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے پاس لائے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھیں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا۔ انہوں نے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشا کی نماز کے بعد سو چکے ہیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا پسند نہ کیا اور جنازہ پڑھا دیا اور چل دیے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ان سے پوچھا جو ان کے پڑوسی آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیوں کیا؟ چلو میرے ساتھ۔“ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دیے حتیٰ کہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی جیسے نمازِ جنازہ کے لیے صف بندی کی جاتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھا اور چار تکبیرات کہیں جیسے جنازے پر تکبیرات کہتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7019]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7019 in Urdu