السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1471. -- باب: من قال: يسل الميت من قبل رجل القبر
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ میت کو قبر کی پائینتی (پاؤں والی) جانب سے داخل کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7057
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا لَيْلًا وَأُسْرِجَ لَهُ سِرَاجٌ وَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ:" رَحِمَكَ اللهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تَالِيًا لِلْقُرْآنِ" ⦗٩١⦘ هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَالَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ أَشْهَرُ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ يَأْخُذُهُ الْخَلَفُ عَنِ السَّلَفِ فَهُوَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو قبر میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چراغ روشن کیا گیا اور آپ کو قبلے کی جانب سے پکڑا گیا اور چار تکبیرات کہیں، پھر فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، بیشک تو بردبار تھا اور قرآن کی تلاوت کرنے والا تھا۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور یہ ایک اور ضعیف سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن جس کا امام شافعی رحمہ اللہ نے تذکرہ کیا ہے وہ ارضِ حجاز میں عام ہے اور یہ طریقہ خلف نے سلف سے لیا ہے اور یہ اتباع کے زیادہ لائق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7057]
یہ سند ضعیف ہے، اور یہ ایک اور ضعیف سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن جس کا امام شافعی رحمہ اللہ نے تذکرہ کیا ہے وہ ارضِ حجاز میں عام ہے اور یہ طریقہ خلف نے سلف سے لیا ہے اور یہ اتباع کے زیادہ لائق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7057]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ترمذي»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7057 in Urdu