السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1488. -- باب: ما يستحب لولي الميت من التعجيل بتنفيذ وصاياه بالصدقة وغيرها
-- باب: میت کے ولی کے لیے صدقہ وغیرہ کی صورت میں میت کی وصیتوں کو نافذ کرنے میں جلدی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7102
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَصْغَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرَهُمْ مِنْهُ سَمَاعًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبْقَى لِلْوَلَدِ مِنْ بِرِّ الْوَالِدِ إِلَّا أَرْبَعٌ الصَّلَاةُ عَلَيْهِ، وَالدُّعَاءُ لَهُ، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِ مِنْ بَعْدِهِ، وَصِلَةُ رَحِمِهِ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِ".
سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں چھوٹا تھا اور ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے کے لیے اس کے والد کی بھلائیاں نہیں باقی رہتیں سوائے چار بھلائیوں کے: ۱۔ اس کا جنازہ پڑھنا۔ ۲۔ اس کے لیے دعا کرنا۔ ۳۔ اس کے بعد اس کی وصیت جاری کرنا اور صلہ رحمی کرنا۔ ۴۔ اس کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7102]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7102 in Urdu