السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1494. -- باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع
-- باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 7125
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنِ ابْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ ⦗١٠٨⦘ رَاجِعُونَ اللهُمَّ أُؤْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا"، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ أِيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ:" أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُغْنِيَهَا وَأَدْعُو اللهَ أَنْ يُذْهِبَ الْغَيْرَةَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ وہی کہے جس کا اللہ عزوجل نے اسے حکم دیا ہے: «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اَللّٰهُمَّ أْجُرْنِيْ فِيْ مُصِيبَتِيْ وَاخْلُفْ لِيْ خَيْرًا مِّنْهَا» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرما“ تو اللہ عزوجل اسے اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔“ وہ فرماتی ہیں: جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: مسلمانوں میں ابو سلمہ سے بہتر کون ہے؟ وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ کلمات کہہ دیے تو اللہ عزوجل نے مجھے ان کے بدلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرما دیے۔ وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس اپنے لیے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں غیرت مند ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہی اس کی بیٹی تو ہم اللہ عزوجل سے دعا کریں گے کہ وہ اسے بے نیاز کر دے، اور میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ غیرت کو دور کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7125]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7125 in Urdu