السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1494. -- باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع
-- باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 7127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ لَهَا:" اتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي" فَقَالَتْ: إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي، قَالَ: وَلَمْ تَعْرِفْهُ، فَقِيلَ لَهَا: هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَأَتَتْ بَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدَهُ بَوَّابِينَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ: بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ:" الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”اللہ سے ڈر اور صبر کر۔“ تو اس نے کہا: آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، کیونکہ میرے جیسی تکلیف آپ کو نہیں پہنچی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی۔ جب اسے بتایا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو اس پر موت جیسی کیفیت طاری ہوگئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آئی تو اس نے وہاں کوئی دربان نہ پایا اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبر تو وہ ہے جو صدمے کے آتے ہی کیا جائے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے نقل کیا ہے اور بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ «الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَىٰ» ”صبر تو وہی ہے جو صدمے کے آغاز میں کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7127]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے نقل کیا ہے اور بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ «الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَىٰ» ”صبر تو وہی ہے جو صدمے کے آغاز میں کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7127]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7127 in Urdu