السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1494. -- باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع
-- باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 7129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَروٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنِي قُبِضَ فَأْتِنَا، فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ:" إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ"، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَرَجُلٌ فَدُفِعَ إِلَى رَسُولِ ⦗١٠٩⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَأَنَّهَا شَنٌّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَاصِمٍ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا، آپ ہمارے پاس تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا کہ ”وہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور یہ کہ وہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کے لیے جو اس نے عطا کیا اور ہر چیز اس کے پاس وقت مقررہ کے ساتھ ہے، سو چاہیے کہ تم صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔“ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قسم دے کر پیغام بھیجا کہ آپ ضرور ان کے پاس تشریف لائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی تھا۔ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا گیا اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: گویا وہ پرانا مشکیزہ ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھا ہے، اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں ہی پر رحم کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7129 in Urdu