السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1499. -- باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك.
-- باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7174
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحِيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ أَخْطَأَ أَوْ نَسِيَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ وَهِيَ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا"..
سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ میت کو زندوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ جھوٹ تو نہیں بولتے لیکن ان سے غلطی یا بھول ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ کے پاس سے گزرے اور اس پر اس کے اہل والے رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس پر رو رہے ہیں اور وہ قبر میں عذاب دی جا رہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7174]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7174 in Urdu