السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1514. -- باب: ما ورد من الوعيد فيمن كنز مال زكاة ولم يؤد زكاته
-- باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ وعید کا بیان جس نے زکوٰۃ کے مال کو خزانہ بنا کر رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی
حدیث نمبر: 7225
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْأُمَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحُ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ" قَالَ سُهَيْلٌ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا قَالُوا: فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" أَوْ قَالَ" الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُكُّ" الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلَا يُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ يُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرًا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّ اللهِ فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ ⦗١٣٨⦘ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِئَاءً لِلنَّاسِ فَذَاكَ الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ" قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا" فَذَكَرَهُ ثُمَّ ذَكَرَ الْإِبِلَ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ.
(٧٢٢٥) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خزانے والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پلیٹوں کی مانند بنایا جائے گا۔ پھر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ نہ کردیں، اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے صاف میدان میں لٹایا جائے گا اور اس کے زکوۃ نہ ادا کیے ہوئے اونٹوں کو اس پر سے گذارا جائے گا۔ جب آخری گزر جائے گا تو دوبارہ پھر پہلے کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ نہ کردیں گے۔ اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی میں پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو بکریوں والا ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو بکریاں اسے اپنے پاؤں سے روندیں گی اور سینگ ماریں گی۔ ان میں کوئی بغیر سینگوں کے نہیں ہوگی اور نہ کوئی لنگڑی ہوگی، جب اس پر سے آخری گزرے گی تو پہلی کو لایا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کردیں اس دن جس کی مقدار تمہارے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سال ہوگی، پھر اسے اس کا جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ سھیل کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائے کا تذکر کیا یا نہیں، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھوڑے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک بھلائی اللہ نے قیامت کے دن تکخیرو برکت باندھی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں باندھی گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑا تین طرح کا ہے، یہ مالک کے لیے باعثِ اجر ہے اور باعثِ ستر (پردہ) اور باعثِ بوجھ ہوگا۔ سو وہ جو باعثِ اجر ہوگا وہ ہوگا جسے آدمی اللہ کی راہ میں وقف کر دے گا اور اسی کے لیے تیار کرے گا تو پھر اس کے پیٹ میں کوئی چیز غائب نہیں ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھیں گے۔ اگر اس نے اسے چرا گاہ میں چرایا اور اس نے جو کھایا تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھ دیں گے یا اس نے اسے نہر سے پلایا تو اس کے لیے ہر قطرے کے عوض جو اس کے پیٹ میں اترا اس کا بھی اجر ہوگا، یہاں تک کہ فرمایا: اس کے بول وبراز (گوبر) میں بھی اجر ہے اور اگر وہ ایک دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم کے بدلے اسے اجر ہوگا، لیکن وہ جو اس کے لیے پردہ (ڈھال) ہوگا وہ یہ ہے جسے انسان خوبصورتی اور عظمت کے لیے رکھتا ہے، مگر وہ اس کی پیٹھ میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کے پیٹ میں تنگی و آسانی میں، لیکن وہ جو اس کے لیے بوجھ ہوگا وہ یہ ہے جسے اس نے غرور وتکبر اور ریا و دکھلا وے کے لیے رکھا وہ یہ ہے جو اس کے لیے بوجھ ہوگا۔ انھوں نے کہا: پھر گدھے کے بارے میں کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ پر کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس جامع آیت کے { مَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہُ وَمَنْ یَعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہُ }۔
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7225]
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7225]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7225 in Urdu