السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1515. -- باب: تفسير الكنز الذي ورد الوعيد فيه
-- باب: اس خزانے کی تفسیر کا بیان جس کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے
حدیث نمبر: 7229
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، أنبأ أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ⦗١٣٩⦘ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ أَخُو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ نَمْشِي فَلَحِقَنَا أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: أَنْتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: سَأَلْتُ عَنْكَ فَدُلِلْتُ عَلَيْكَ فَأَخْبِرْنِي أَتَرِثُ الْعَمَّةُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَا أَدْرِي" فَقَالَ: أَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَلَا تَدْرِي وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنْتَ لَا تَدْرِي وَلَا نَدْرِي قَالَ:" نَعَمْ، اذْهَبْ إِلَى الْعُلَمَاءِ بِالْمَدِينَةِ فَسَلْهُمْ" فَلَمَّا أَدْبَرَ قَبَّلَ ابْنُ عُمَرَ يَدَيْهِ قَالَ: نِعِمَّا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُسْأَلُ عَمَّا لَا يَدْرِي فَقَالَ لَا أَدْرِي، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ} [التوبة: ٣٤] فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" مَنْ كَنَزَهُمَا وَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُمَا فَوَيْلٌ لَهُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتْ جَعَلَهَا اللهُ طُهْرَةً لِلْأَمْوَالِ" ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ:" مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا فَقَالَ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ وَأَعَادَهُ فِي التَّفْسِيرِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ.
(٧٢٢٩) خالد بن اسلم فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ایک اعرابی ملا، اس نے کہا: آپ عبداللہ بن عمر ہیں؟ میں نے کہا: ہاں اس نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور آپ کی طرف ہی میری رہنمائی کی گئی ہے، آپ مجھے بتائیے: کیا پھوپھی وارث ہوتی ہے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نہیں جانتا تو اس نے کہا: آپ ابن عمر ہیں اور یہ نہیں جانتے، اس نے دوسری مرتبہ کہا: آپ بھی نہیں جانتے اور ہم بھی نہیں جانتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں آپ علمائِ مدینہ کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں، جب وہ پلٹا تو ابن عمر نے اس کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ابو عبد الرحمن نے ٹھیک کہا ہے کہ وہ بات پوچھی جا رہی ہے جو وہ جانتا نہیں تو میں نہیں جانتا تو اعرابی نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے اسے جمع کیا اور اس میں سے زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے لیے ہلاکت ہے۔ بیشک یہ زکوۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا، جب زکوۃ کا حکم نازل ہوا تو اسے اللہ تعالیٰ نے مال کی پاکیزگی کا باعث بنادیا۔ پھر میری طرف دیکھا تو فرمایا: مجھے کوئی پروا نہیں اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی ہو میں اس کی مقدار کو جانتا ہوں تو اسے پاک کرتا رہوں گا اور اس میں اللہ کے حکم کے تحت عمل کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7229]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7229 in Urdu