السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1516. -- باب: الدليل على أن من أدى فرض الله في الزكاة فليس عليه أكثر منه إلا أن يتطوع سوى ما مضى في الباب قبله
-- باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس نے زکوٰۃ میں اللہ کا فرض ادا کر دیا تو اس پر اس سے زیادہ کچھ واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے نفلی صدقہ کرے، ماسوائے اس کے جو پچھلے باب میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 7242
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا شَاذَانُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَتْ: سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ} قَالَ:" إِنَّ فِي هَذَا الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ" وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ} [البقرة: ١٧٧] ، فَهَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِأَبِي حَمْزَةَ مَيْمُونٍ الْأَعْوَرِ كُوفِيٍّ وَقَدْ جَرَّحَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَمَنْ بَعْدَهُمَا مِنْ حُفَّاظِ الْحَدِيثِ، وَالَّذِي يَرْوِيهِ أَصْحَابُنَا فِي التَّعَالِيقِ لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ فَلَسْتُ أَحْفَظُ فِيهِ إِسْنَادًا، وَالَّذِي رَوَيْتُ فِي مَعْنَاهُ مَا قَدَّمْتُ ذِكْرَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ﴿وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ﴾ [سورة المعارج: 24] تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مال میں زکاۃ کے سوا بھی حق ہے“ اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ﴾ [سورة البقرة: 177] کہ ”مشرق و مغرب کی طرف منہ پھیر لینا ہی نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان لایا اور انبیاء پر ایمان لایا اور اس کی محبت میں مال قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دیا اور مانگنے والوں کو بھی اور غلاموں کو آزاد کیا اور نماز قائم کی اور زکاۃ ادا کی۔“
یہ حدیث ابوحمزہ میمون اعور کوفی کے واسطے سے معروف ہے اور امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور ان کے بعد کے حفاظِ حدیث نے اس پر جرح کی ہے۔
اور جیسے ہمارے اصحاب نے تعالیق میں بیان کیا، وہ یہ ہے کہ مال میں کوئی حق نہیں سوائے زکاۃ کے۔ میں اس کی سند کو محفوظ نہیں جانتا اور جسے میں نے بیان کیا اس کا تذکرہ پہلے کہہ دیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7242]
یہ حدیث ابوحمزہ میمون اعور کوفی کے واسطے سے معروف ہے اور امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور ان کے بعد کے حفاظِ حدیث نے اس پر جرح کی ہے۔
اور جیسے ہمارے اصحاب نے تعالیق میں بیان کیا، وہ یہ ہے کہ مال میں کوئی حق نہیں سوائے زکاۃ کے۔ میں اس کی سند کو محفوظ نہیں جانتا اور جسے میں نے بیان کیا اس کا تذکرہ پہلے کہہ دیا ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7242]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7242 in Urdu