السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1518. -- باب: كيف فرض الصدقة
-- باب: زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7253
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ قَالَ: وَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِ الْعِلَلِ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ صَدُوقٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: وَقَدْ وَافَقَ سُفْيَانَ بْنَ حُسَيْنٍ عَلَى هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ حَدِيثَ الصَّدَقَاتِ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَاهُ ابْنُ صَاعِدٍ عَنْ يَعْقُوبَ الدَّوْرَقِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ كَذَلِكَ، قَالَ: وَقَدْ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ جَمَاعَةٌ فَأَوْقَفُوهُ وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سفیان بن حسین رحمہ اللہ اسی سند اور معنی کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ ”اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون (مذکر) اس کی جگہ لیا جائے“ اور انہوں نے زہری رحمہ اللہ کی بات کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں فرمایا: میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ یہ محفوظ ہے اور سفیان بن حسین صدوق ہیں۔
ابواحمد عبداللہ بن عدی حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم عن ابیہ کی سند سے زکوٰۃ کی اس حدیث کو روایت کرنے میں سلیمان بن کثیر (محمد بن کثیر کے بھائی) نے سفیان بن حسین کی موافقت کی ہے۔ نیز فرمایا: ایک جماعت نے اسے زہری عن سالم عن ابیہ کی سند سے موقوف روایت کیا ہے، جبکہ سفیان بن حسین اور سلیمان بن کثیر نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7253]
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے کتاب العلل میں فرمایا: میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ یہ محفوظ ہے اور سفیان بن حسین صدوق ہیں۔
ابواحمد عبداللہ بن عدی حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم عن ابیہ کی سند سے زکوٰۃ کی اس حدیث کو روایت کرنے میں سلیمان بن کثیر (محمد بن کثیر کے بھائی) نے سفیان بن حسین کی موافقت کی ہے۔ نیز فرمایا: ایک جماعت نے اسے زہری عن سالم عن ابیہ کی سند سے موقوف روایت کیا ہے، جبکہ سفیان بن حسین اور سلیمان بن کثیر نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7253]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7253 in Urdu