السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1519. -- باب: إبانة قوله وفي كل أربعين ابنة لبون وفي كل خمسين حقة
-- باب: آپ ﷺ کے فرمان ”اور ہر چالیس اونٹوں میں ایک بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) اور ہر پچاس میں ایک حقہ (تین سالہ اونٹنی) ہے“ کی وضاحت کا بیان
حدیث نمبر: 7257
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أَسْمَاءَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ فِي الصَّدَقَةِ وَهُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَمَرَ الْوَلِيدُ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامٌ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامَلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَهُمْ بِالْعَمَلِ بِمَا فِيهَا وَلَا يَتَعَدُّونَهَا، وَهَذَا كِتَابٌ تَفْسِيرُهُ:" لَا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أِيَّ السِّنِينَ وُجِدَتْ فِيهَا أُخِذَتْ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ عَلَى ذَلِكَ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ⦗١٥٤⦘ وَلَا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَ مِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَ مِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةَ شَاةٍ شَاةٌ".
(٧٢٥٧) ابن شہاب فرماتے ہیں: یہ نسخہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر ہے جس پر تمام امراء نے عمل کروایا، وہ یہ ہے کہ جب تک اونٹ پانچ کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں ان میں زکوۃ نہیں۔ جب وہ پانچ ہوجائیں تو ان میں ایک بکری ہے دس تک۔ پھر دس سے 15 تک 3 بکریاں اور پندرہ سے بیس تک چالس بکریاں کہ وہ پچیس تک پہنچ جائیں اور پچیس میں فریضہ ایک بنت مخاض ہے پنتیس تک پھر اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون مذکر ہے اور جب ان کی تعداد چھتیس ہوجائے تو اس میں بنت لبون ہے پینتالیس تک اور جب چھیالیس ہوجائیں تو اس میں ساٹھ تک حقہ ہے سانڈ قبول کرنے والی اور ساٹھ سے پچھتر تک جذعہ ہے اور پچھتر سے نوے تک دو بنت لبون ہیں اور اکانوے سے ایک سو بیس تک دو حقے ہیں سانڈ قبول کرنے والے۔ جب ایک سو اکیس ہوجائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں ایک سو انتیس تک جب ایک سو تیس ہوجائیں تو اس میں ایک سو انتالیس تک ایک حقہ اور دو بنت لبون ہیں۔ جب ایک سو چالیس ہوجائیں تو ایک سو پچاس تک دو حقے اور ایک بنت لبون ہے۔ جب ایک سو پچاس ہوجائیں تو انسٹھ تک تین حقے ہیں اور جب ایک سو ساٹھ ہوجائیں تو اس میں چار بنت لبون ہیں ایک سو انہتر تک اور جب ایک سو ستر ہوجائیں تو اس میں ایک حقہ اور تین بنت لبون ہیں، ایک سو اناسی تک اور جب ایک سو اسی ہوجائیں تو ان میں دو حقے اور دو بنت لبون ہیں ایک سوانانوے تک۔ جب وہ ایک سونوے ہوجائیں تو اس میں تین حقے اور ایک بنت لبون ہے ایک سو ننانوے تک اور جب وہ سو ہوجائیں تو اس میں چار حقے اور پانچ بنت لبون ہیں۔ سال میں یہ تعداد جب بھی پائی جائے تو یہی زکوۃ لی جائے گی جو ہم نے اس تحریر میں لکھ دی۔ پھر اونٹوں کی زکوۃ اسی اعتبار سے لی جائے گی۔ جو ہم نے اس میں تحریر کیا اور بکریوں کی زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی جب تک وہ چالیس نہ ہوجائیں۔ جب چالیس ہوجائیں تو اس میں ایک بکری ہے ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو اکیس ہوجائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں دو سو تک اور جب دو سو ایک ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو چار سو تک چار بکریاں ہیں، پانچ سو تک۔ پھر اس میں پانچ بکریاں ہیں چھ سو تک اور جب چھ سو مکمل ہوجائیں تو اس میں چھ بکریاں ہیں سات سو تک اور سات سو ہوجائیں تو اس میں سات بکریاں ہیں آٹھ سو تک اور جب آٹھ سو ہوجائیں تو نو سو تک آٹھ بکریاں ہیں اور نو سو سے ہزار تک نوبکریاں ہیں اور جب ہزار ہو ہوجائیں تو اس میں دس بکریاں ہیں پھر ہر سو میں ایک بکری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7257]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7257 in Urdu