السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1527. -- جماع أبواب صدقة البقر السائمة
-- چرنے والی گائیوں کی زکوٰۃ کے ابواب کا مجموعہ
حدیث نمبر: 7284
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عُمَرَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُنَادِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ:" هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ". قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ هُمْ؟ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" هُمُ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا نَفَذَتْ أُخْرَهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ". لَفْظُ حَدِيثِ وَكِيعٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور مجھ سے ٹھہرا نہ گیا اور میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ زیادہ مال والے، مگر جس نے اپنے مال کو ایسے ایسے خرچ کیا۔“ اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ کہی، پھر فرمایا: ”وہ بہت کم ہیں، کوئی اونٹوں والا، گائے والا یا بکریوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن ان (جانوروں) کو لے کر آئے گا، وہ بڑے اور موٹے ہوں گے، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گے اور اپنے پاؤں سے روندیں گے، جب آخری (جانور) گزر جائے گا تو پہلا پلٹ آئے گا، یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلہ کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7284]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7284 in Urdu