السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1528. -- باب: كيف فرض صدقة البقر
-- باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7291
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقْصِ الْبَقَرِ فَقَالَ:" لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْوَقْصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ.
عمرو بن دینار، طاؤس رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گائیوں کا «وَقْص» (دو نصابوں کے درمیان کی تعداد) لایا گیا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بارے میں کسی چیز کا حکم نہیں دیا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْوَقَصُ» ”وقص“ وہ جانور ہے جو فریضہ کو نہ پہنچا ہو۔
حسن بن عمارہ فرماتے ہیں کہ جو روایت حکم نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی وہ حجت نہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا گیا: ”تجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیس گائے میں سے ایک بچھیا بچھڑا لوں اور ہر چالیس میں سے ایک «الْمُسِنَّةُ» ”مسنہ“ لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7291]
حسن بن عمارہ فرماتے ہیں کہ جو روایت حکم نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی وہ حجت نہیں کہ انہوں نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا گیا: ”تجھے کیا حکم دیا گیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تیس گائے میں سے ایک بچھیا بچھڑا لوں اور ہر چالیس میں سے ایک «الْمُسِنَّةُ» ”مسنہ“ لوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7291]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7291 in Urdu