🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1530. -- باب: السن التي تؤخذ في الغنم
-- باب: بکریوں کی زکوٰۃ میں لی جانے والی عمر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7301
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَلَى الطَّائِفِ وَمَخَالِيفِهَا، فَخَرَجَ مُصَدِّقًا فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَمْ يَأْخُذْهُ مِنْهُمْ فَقَالُوا لَهُ: إِنْ كُنْتَ مُعْتَدًّا عَلَيْنَا بِالْغِذَاءِ فَخُذْهُ مِنَّا فَأَمْسَكَ حَتَّى لَقِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: اعْلَمْ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّا نَظْلِمُهُمْ نَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ وَلَا نَأْخُذُهُ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" فَاعْتَدَّ عَلَيْهِمْ بِالْغِذَاءِ حَتَّى بِالسَّخْلَةِ يَرُوُحُ بِهَا الرَّاعِي عَلَى يَدِهِ، وَقُلْ لَهُمْ لَا آخُذُ مِنْكُمُ الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا ذَاتَ الدَّرِّ وَلَا الشَّاةَ الْأَكُولَةَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ، وَخُذِ الْعَنَاقَ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ، فَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْمَالِ وَخِيَارِهِ".
بشر بن عاصم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے والد سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو طائف اور اس کے گرد و نواح پر عامل بنا کر بھیجا تو وہ زکوٰۃ لینے کے لیے نکلے۔ انہوں نے ان پر (بکریوں کے) چھوٹے بچوں کو بھی شمار کیا اور ان سے وہ نہ لیے تو انہوں نے کہا: اگر تم ہم پر چھوٹے بچے شمار کرتے ہو تو پھر انہیں ہم سے لے لو، تو وہ رک گئے یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا: جان لیجیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر ظلم کرتے ہیں کہ ان کے چھوٹے بچے شمار کرتے ہیں اور انہیں ان سے لیتے نہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم ان پر چھوٹے بچے شمار کرو، یہاں تک کہ اس نوزائیدہ بچے کو بھی جسے چرواہا اپنے ہاتھ پر اٹھا کر لاتا ہے، اور ان سے کہہ دو کہ میں تم سے نہ نئی بچہ دینے والی، نہ حاملہ، نہ دودھ والی، نہ کھانے کے لیے پالی ہوئی موٹی بکری اور نہ ہی بکریوں کا سانڈ لوں گا، اور تم بکری کا بچہ «جَذَعَة» ”جذعہ (سال سے کم عمر کا)“ اور «ثَنِيَّة» ”دوندا (ثنیہ)“ وصول کرو، یہ مال کے چھوٹے بچوں اور اس کے عمدہ جانوروں کے درمیان انصاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7301]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7301 in Urdu