🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1531. -- باب: لا يؤخذ كرائم أموال الناس
-- باب: لوگوں کے عمدہ ترین مال (زکوٰۃ میں) نہ لیے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7304
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: سِرْتُ أَوْ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَارَ مَعَ مُصَدِّقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لَا تَأْخُذْ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَكَانَ إِنَّمَا يَأْتِي الْمِيَاهَ حِينَ تُرَدُّ الْغَنَمُ فَيَقُولُ: أَدُّوا صَدَقَاتِ أَمْوَالِكُمْ". قَالَ فَعَمَدَ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَى نَاقَةٍ كَوْمَاءَ قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا صَالِحٍ مَا الْكَوْمَاءُ؟ قَالَ: عَظِيمَةُ السَّنَامِ، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْخُذَ خَيْرَ إِبِلِي، قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا قَالَ: فَخَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، ثُمَّ خَطَمَ لَهُ أُخْرَى دُونَهَا فَقَبِلَهَا وَقَالَ: إِنِّي آخُذُهَا وَأَخَافُ أَنْ يَجِدَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَمَدْتَ إِلَى رَجُلٍ فَتَخَيَّرْتَ عَلَيْهِ إِبِلَهُ.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عامل کے ساتھ گیا تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ”وہ دودھ پلانے والا جانور نہ لے اور نہ ہی جدا جدا چرنے والیوں کو اکٹھا کرے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے۔“ پس وہ ان کے پاس پانی پلانے کی جگہ پر آتے اور انہیں کہتے، جب بکریاں وہاں آتیں کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی «كَوْمَاء» اونٹنی کا قصد کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابو صالح! یہ «كَوْمَاء» کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: عظیم کوہان والی۔ وہ کہتے ہیں، انہوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا تو اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم میرے عمدہ اونٹوں میں سے لو مگر مصدق نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر اس نے دوسرا پیش کیا تو انہوں نے وہ لینے سے بھی انکار کر دیا، پھر اس نے تیسرا پیش کیا تو انہوں نے وہ قبول کر لیا اور کہا کہ میں لے تو رہا ہوں مگر میں ڈرتا ہوں کہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میرا مؤاخذہ نہ کریں اور کہیں کہ: ”تو ایک شخص کے پاس گیا اور تو نے اس کے اونٹوں میں سے چن کر عمدہ اونٹ لے لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7304]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7304 in Urdu