السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1534. -- باب: الأمهات تموت وتبقى السخال نصابا فيؤخذ منها
-- باب: مادہ جانور مر جائیں اور بچے نصاب کے برابر باقی رہ جائیں تو زکوٰۃ ان بچوں میں سے لی جائے گی
حدیث نمبر: 7324
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١٧٥⦘ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ يَعْنِي بِذَلِكَ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ الْكِتَابِ، قَالَ لِيَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللهِ عَنِ اللَّيْثِ يَعْنِي عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: عَنَاقًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ عَقِيلٍ، فَقَالَ عِقَالًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت اختیار کی اور عرب میں جس نے (دین سے) انکار کرنا تھا کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! آپ لوگوں سے کیسے لڑائی کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے تب تک لڑائی کروں جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار نہ کر لیں، اور جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال و جان کو محفوظ کر لیا مگر اس کے حق کے ساتھ، اور پھر اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس سے بھی لڑوں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کی اور زکوٰۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے زکوٰۃ کا ایک بچہ بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ادا کیا کرتے تھے، تو اس کے روکنے کی وجہ سے میں ان سے لڑائی کروں گا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق ان کے دل پر کھول دیا لڑائی کرنے کے لیے یہاں تک کہ میں نے جان لیا کہ یہی حق (درست) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7324]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7324 in Urdu