السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1538. -- باب: من تجب عليه الصدقة
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7337
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ⦗١٧٩⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَمَالِكٌ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ يَحْيَى الْمَازِنِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَدَلَّ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ خَمْسَ ذَوْدٍ وَخَمْسَ أَوَاقٍ وَخَمْسَةَ أَوْسُقٍ إِذَا كَانَ وَاحِدٌ مِنْهَا لِحُرٍّ مُسْلِمٍ فَفِيهِ الصَّدَقَةُ فِي الْمَالِ نَفْسِهِ لَا فِي الْمَالِكِ؛ لِأَنَّ الْمَالِكَ لَوْ أَعْوَزَ مِنْهَا لَمْ تَكُنْ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹ سے کم میں بھی زکوٰۃ نہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس پر دلالت کرتا ہے کہ پانچ اونٹ، پانچ اوقیہ چاندی یا پانچ وسق کھجوریں، ان میں سے ایک چیز آزاد مسلمان کے پاس ہوگی تو زکوٰۃ خود اس مال میں ہوگی، مالک (کی ذات) پر نہیں، کیونکہ اگر مالک کے پاس یہ مقدار پوری نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7337]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اس پر دلالت کرتا ہے کہ پانچ اونٹ، پانچ اوقیہ چاندی یا پانچ وسق کھجوریں، ان میں سے ایک چیز آزاد مسلمان کے پاس ہوگی تو زکوٰۃ خود اس مال میں ہوگی، مالک (کی ذات) پر نہیں، کیونکہ اگر مالک کے پاس یہ مقدار پوری نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7337]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7337 in Urdu