🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1565. -- باب: ما ورد في العسل
-- باب: شہد کی زکوٰۃ کے متعلق جو منقول ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7462
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ" قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السُّرَاةِ. قَالَ:" فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ: لَهُمْ زَكَاةٌ فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى"، فَقَالُوا: كَمْ قَالَ؟ فَقُلْتُ:" الْعُشْرُ، فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا كَانَ قَالَ: فَقَبَضَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَاعَهُ ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ".
سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام قبول کر لیا، پھر میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری قوم کے جو لوگ اسلام لائے ان کے اموال کے بارے میں لکھ دیں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ دیا اور اسے اس پر عامل مقرر کر دیا، پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا اور سعد رضی اللہ عنہ سراۃ والوں میں سے تھے، فرماتے ہیں: وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور میں نے ان سے کہا کہ اس میں زکوۃ ہے۔ بیشک ان پھلوں میں کوئی بھلائی نہیں جن کی زکوۃ ادا نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا: کتنی زکوۃ ہے؟ تو میں نے کہا: ”دسواں حصہ“، پھر میں نے ان سے عشر وصول کیا اور میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس بات سے آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور فروخت کر دیا، پھر اس کی قیمت مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7462]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أحمد»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7462 in Urdu