🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1573. -- باب: لن يهلك على الله إلا هالك.
-- باب: اس قول کا بیان کہ ”اللہ کے ہاں صرف وہی ہلاک ہوگا جو ہلاکت ہی کا مستحق ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7512
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ إِذْ سَمِعَ رَعْدًا فِي سَحَابٍ، فَسَمِعَ فِيهِ كَلَامًا اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ بِاسْمِهِ فَجَاءَ ذَلِكَ السَّحَابُ إِلَى حَرَّةٍ فَأَفْرَغَ مَا فِيهِ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى ذُنَابِ شَرْجٍ فَانْتَهَى إِلَى شَرْجَةٍ فَاسْتَوْعَبَتِ الْمَاءَ وَمَشَى الرَّجُلُ مَعَ السَّحَابَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى رَجُلٍ قَائِمٍ فِي حَدِيقَةٍ يَسْقِيهَا، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ فِي سَحَابٍ هَذَا مَاؤُهُ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ بِاسْمِكَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا إِذَا صَرَمْتَهَا؟ قَالَ: أَمَا إِذْ قُلْتَ ذَلِكَ فَإِنِّي أَجْعَلُهَا ثَلَاثَةَ أَثْلَاثٍ أَجْعَلُ ثُلُثًا لِي وَلِأَهْلِي، وَأَرُدُّ ثُلُثًا فِيهَا، وَأَجْعَلُ ثُلُثًا فِي الْمَسَاكِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ أَبِي دَاوُدَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس نے بادلوں میں سے رعد کی آواز سنی اور کچھ کلام بھی سنا کہ فلاں کے باغ کو پانی پلا اور اس کا نام بھی لیا، تو وہ بادل ایک میدان کی طرف آیا جس قدر پانی اس میں تھا وہیں انڈیل دیا اور وہ پانی وادی میں ایک بہنے والی جگہ کی طرف جمع ہو گیا اور وہ ایک نالے کی صورت بہنے لگا اور وہ آدمی بادلوں کے ساتھ چلا یہاں تک کہ وہ ایک آدمی کے پاس آیا جو اپنے باغ میں کھڑا تھا اور اسے پانی پلا رہا تھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! تیرا کیا نام ہے؟ اس نے کہا: تو کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس بادل میں سے سنا کہ اس کا پانی فلاں کے باغ کو پلاؤ، تیرے نام کے ساتھ کہا گیا، تو جب اسے کاٹتا ہے تو اس میں کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا: اگر تو کہتا ہے تو میں بتاتا ہوں کہ میں اس کے تین حصے کرتا ہوں: ایک اس میں سے اپنے اور اہل کے لیے رکھتا ہوں اور ایک اسی میں لوٹا دیتا ہوں اور ایک حصہ مساکین، محتاجوں اور مسافروں میں تقسیم کرتا ہوں“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7512]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7512 in Urdu