السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1580. -- باب: ما ورد في إرضاء المصدق
-- باب: زکوٰۃ وصول کرنے والے کو راضی رکھنے کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7531
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَاكَ الْمُصَدِّقُ فَأَعْطِهِ صَدَقَتَكَ فَإِنِ اعْتَدَى عَلَيْكَ فَوَلِّهِ ظَهْرَكَ وَلَا تَلْعَنْهُ وَقُلِ اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَكَ مَا أَخَذَ مِنِّي". وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أنَّهُ رَأَى الصَّبْرَ عَلَى تَعَدِّيهِمْ، وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَقَدْ مَضَى فِي بَابِ الِاخْتِيَارِ فِي دَفْعِ الصَّدَقَةِ إِلَى الْوَالِي، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى ظُلْمِ الْوُلَاةِ، وَذَلِكَ مَحْمُولٌ عَلَى أنَّهُ أُمِرَ بِالصَّبْرِ عَلَيْهِ إِذَا عَلِمَ أنَّهُ لَا يَلْحَقُهُ غَوْثٌ وَأَنَّ مَنْ وَلَّاهُ لَا يَقْبِضُ عَلَى يَدَيْهِ فَإِذَا كَانَ يُمْكِنُهُ الدَّفْعُ أَوْ كَانَ يَرْجُو غَوْثًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زکوٰۃ لینے والا آئے تو اسے زکوٰۃ دے دو، اگر وہ تم پر زیادتی کرتا ہے تو اس سے منہ موڑ لو مگر برا بھلا نہ کہو، بلکہ کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَكَ مَا أُخِذَ مِنِّي» ”اے میرے اللہ! میں تجھی سے اس کا اجر چاہتا ہوں جو کچھ مجھ سے لیا گیا ہے۔““
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان رہو اور جو وہ چاہتے ہیں اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ، اگر انصاف کریں گے تو ان کے لیے، اگر ظلم کریں گے تو عذاب انہی پر ہوگا۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والیوں کے صبر کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور یہ بھی اسی پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا حکم دیا جب کہ اس کو علم بھی ہو کہ کوئی معاون نہ ہوگا اور جو والی ہے اس کے ہاتھ کو روکا نہیں جاسکتا جب تک اس کا دفع کرنا ممکن نہ ہو یا مدد کی امید نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7531]
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے درمیان رہو اور جو وہ چاہتے ہیں اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ، اگر انصاف کریں گے تو ان کے لیے، اگر ظلم کریں گے تو عذاب انہی پر ہوگا۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والیوں کے صبر کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور یہ بھی اسی پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا حکم دیا جب کہ اس کو علم بھی ہو کہ کوئی معاون نہ ہوگا اور جو والی ہے اس کے ہاتھ کو روکا نہیں جاسکتا جب تک اس کا دفع کرنا ممکن نہ ہو یا مدد کی امید نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7531]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الحاكم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7531 in Urdu