السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1588. -- باب: سياق أخبار تدل على تحريم التحلي بالذهب
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو سونے کا زیور پہننے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7556
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: جَاءَتِ ابْنَةُ هُبَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ أَيْ خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهَا فَأَتَتْ فَاطِمَةُ تَشْكُو إِلَيْهَا، قَالَ ثَوْبَانُ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ وَأَنَا مَعَهُ وَقَدْ أَخَذَتْ مِنْ عُنُقِهَا سِلْسِلَةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَتْ: هَذِهِ أَهْدَاهَا لِي أَبُو حَسَنٍ وَفِي يَدِهَا السِّلْسِلَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟"، فَخَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَعَمَدَتْ فَاطِمَةُ إِلَى السِّلْسِلَةِ فَبَاعَتْهَا وَاشْتَرَتْ بِهَا نَسَمَةً وَأَعْتَقَتْهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ". ⦗٢٣٨⦘.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں سونے کی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ پر مار رہے تھے تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت لے کر آئیں۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو انہوں نے اس کی گردن سے سونے کی چین کو پکڑا اور کہا: یہ ابو الحسن (رضی اللہ عنہ) نے مجھے تحفہ دیا تھا اور چین ان کے ہاتھ میں تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ لوگ کہیں کہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آگ کی چین ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل گئے اور نہ بیٹھے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ چین فروخت کر دی اور انہوں نے اس سے ایک غلام خرید کر آزاد کر دیا۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي نَجّٰى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آگ سے بچا لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7556 in Urdu