السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1604. -- باب: زكاة المعدن ومن قال: المعدن ليس بركاز
-- باب: کان (معدن) کی زکوٰۃ، اور ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز (دفون خزانہ) نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: Q7636
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا فِي الذِّكْرِ وَأَضَافَ الْخُمُسَ إِلَى الرِّكَازِ..
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: ”کان (میں گر کر مرنے والے کا خون) رائیگاں ہے، اور رکاز (دبے ہوئے خزانے) میں پانچواں حصہ (خمس) ہے۔“
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7636]
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7636]
حدیث نمبر: 7636
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفَرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ لَيْسَ هَذَا مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ، وَلَوْ ثَبَتُوهُ لَمْ تَكُنْ فِيهِ رِوَايَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِقْطَاعَهُ فَأَمَّا الزَّكَاةُ فِي الْمَعَادِنِ دُونَ الْخُمُسِ فَلَيْسَتْ مَرْوِيَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ رَبِيعَةَ مَوْصُولًا.
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ اپنے کئی علماء سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کی کانیں جاگیر میں دیں اور وہ فرع کی جانب تھیں، ان معادن (کانوں) سے آج تک صرف زکوۃ ہی لی جاتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان روایات میں سے نہیں جنہیں اہل حدیث ثابت مانتے ہیں، اور اگر وہ اسے ثابت مان بھی لیں تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے جاگیر دینے کے کوئی روایت نہیں، رہی کان میں خمس کے بجائے زکوۃ تو وہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کی روایت کے بارے میں بات وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی، اور یہ عبدالعزیز دراوردی کے واسطے سے ربیعہ سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7636]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان روایات میں سے نہیں جنہیں اہل حدیث ثابت مانتے ہیں، اور اگر وہ اسے ثابت مان بھی لیں تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے جاگیر دینے کے کوئی روایت نہیں، رہی کان میں خمس کے بجائے زکوۃ تو وہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک کی روایت کے بارے میں بات وہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی، اور یہ عبدالعزیز دراوردی کے واسطے سے ربیعہ سے موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7636]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7636 in Urdu