السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1624. -- باب: من قال: لا يخرج من الحنطة في صدقة الفطر إلا صاعا.
-- باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”صدقۃ الفطر میں گندم سے صرف ایک صاع ہی نکالا جائے گا“۔
حدیث نمبر: 7701
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، مِنَ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ: إِنِّي أُرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ بِذَلِكَ النَّاسُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ، أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ". وَفِي رِوَايَةِ الرَّزَّازِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، ⦗٢٧٩⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، دُونَ كَلِمَةٍ أَوْ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ وَقَدْ أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ وَفِيهِ كَلِمَةُ أَوْ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے تو ہم صدقہ فطر ہر چھوٹے بڑے اور غلام و آزاد کی طرف سے کھانے کا ایک صاع، پنیر کا ایک صاع، یا ایک صاع جو، کھجور یا منقیٰ میں سے دیا کرتے تھے۔ ہم یوں ہی نکالتے رہے حتیٰ کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے لیے آئے تو منبر پر لوگوں سے کلام کیا اور جو انہوں نے کلام کیا وہ یہ تھا کہ میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کے دو مد کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں، تو لوگوں نے اس کو اپنا لیا، لیکن میں تو ہمیشہ وہی نکالتا رہوں گا جو میں نکالا کرتا تھا۔
رزاز کی ایک روایت میں ہے کہ گندم کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7701]
رزاز کی ایک روایت میں ہے کہ گندم کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7701]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا الفظ مسلم، أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7701 in Urdu