🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1625. -- باب: من قال: يخرج من الحنطة في صدقة الفطر نصف صاع.
-- باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”صدقۃ الفطر میں گندم سے نصف صاع نکالا جائے گا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7713
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ، وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ، فَقَالَ: حَدِيثٌ بَصْرِيٌ وَإِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ، قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ: الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا رَآهُ قَطُّ، كَانَ بِالْمَدِينَةِ أَيَّامَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى الْبَصْرَةِ، قَالَ: وَقَالَ لِي عَلِيٌّ فِي حَدِيثِ الْحَسَنِ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ إِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ ثَابِتٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَمَثَلُ قَوْلِ مُجَاهِدٍ خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ، وَكَقَوْلِ الْحَسَنِ: إِنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ حَدَّثَهُمُ، الْحَسَنُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ: حَدِيثُ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ سَمَاعًا مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْخُطْبَةِ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ.
محمد بن احمد بن براء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے علی بن مدینی رحمہ اللہ سے سنا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقہ فطر کے بارے میں نقل کی، تو انہوں نے فرمایا: یہ بصری حدیث ہے اور اس کی سند مرسل ہے۔
علی (بن مدینی) نے یہ بھی فرمایا: حسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں سنا اور نہ ہی کبھی انہیں دیکھا، جن دنوں ابن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ کے امیر تھے وہ مدینہ میں تھے۔ اور علی نے مجھ سے حسن کے قول ”ابن عباس نے ہمیں بصرہ میں خطبہ دیا“ کے بارے میں فرمایا: یہ ثابت کے اس قول کی طرح ہے کہ ”ہمارے پاس عمران بن حصین آئے“، اور مجاہد کے اس قول کی طرح کہ ”ہمارے پاس علی نکل کر آئے“، اور حسن کے اس قول کی طرح کہ ”سراقہ بن مالک بن جعشم نے انہیں حدیث بیان کی“، حسن نے ابن عباس سے نہیں سنا۔
شیخ ابو احمد فرماتے ہیں: حسن کی ابن عباس سے حدیث مرسل ہے، اور ہم نے ابو رجاء عطاردی سے روایت کیا ہے جنہوں نے اسی خطبے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خود سنا کہ صدقہ فطر میں کھانے کا ایک صاع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7713]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7713 in Urdu