السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1640. -- باب: ما يستدل به على أن قوله صلى الله عليه وسلم: " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى " وقوله حين سئل عن أفضل الصدقة: " جهد من مقل " إنما يختلف باختلاف أحوال الناس في الصبر على الشدة والفاقة والاكتفاء بأقل الكفاية، وبالله التوفيق
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی حالت میں ہو“
حدیث نمبر: 7778
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِيَاضٌ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَعَاهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَعَاهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ فَذَكَرَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:" تَصَدَّقُوا"، فَتَصَدَّقُوا فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ:" تَصَدَّقُوا" فَأَلْقَى هُوَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَانْتَهَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ قَالَ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَدَعَوْتُهُ فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ فَتَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ وَتَكْسُونَهُ، فَلَمْ تَفْعَلُوا، فَقُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَتَصَدَّقْتُ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ مِمَّا تَصَدَّقُوا، ثُمَّ قُلْتُ: تَصَدَّقُوا، فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، خُذْ ثَوْبَكَ" وَانْتَهَرَهُ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور حکم دیا کہ وہ دو رکعت ادا کرے، پھر وہ دوسرے جمعہ کو داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے دو رکعت ادا کرنے کو کہا، پھر وہ تیسرے جمعہ کو داخل ہوا اور وہی بات بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو، صدقہ کرو“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کپڑے دیے، اس میں سے جو انہوں نے صدقہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرو“، تو اس نے اپنا ایک کپڑا پھینک دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کیا جو عمل اس نے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دیکھو کہ یہ مسجد میں اجڑی حالت سے داخل ہوا تو میں نے اسے بلایا اور میں نے امید کی کہ تم اسے کچھ دو گے اور صدقہ کرو گے اور تم اسے پہناؤ گے مگر تم نے ایسا نہ کیا۔ تب میں نے کہا: صدقہ کرو، صدقہ کرو، تو میں نے اسے دو کپڑے دیے اس میں سے جو تم نے صدقہ کیا۔ پھر میں نے کہا: صدقہ کرو تو اس نے اپنا ایک کپڑا پھینک دیا ہے۔ اپنا کپڑا پکڑ“، اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈانٹا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7778]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه احمد»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7778 in Urdu