السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1646. -- باب: ما ورد في سقي الماء
-- باب: پانی پلانے کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7809
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي كُدَيْرٌ الضَّبِّيُّ، أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنْ طَاعَتِهِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ:" أَوَ هُمَا أَعْمَلَتَاكَ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" تَقُولُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ"، قَالَ: وَاللهِ مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ فَضْلَ مَالِي، قَالَ:" فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتُفْشِي السَّلَامَ" قَالَ: هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ، قَالَ:" فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَانْظُرْ بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ، ثُمَّ اعْمَدْ إِلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسْقِهِمْ، فَلَعَلَّكَ أَنْ لَا يَهْلِكَ بَعِيرُكَ، وَلَا يَنْخَرِقَ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ". قَالَ: فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ، قَالَ: فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ، وَلَا هَلَكَ بَعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا".
کُدَیر ضَبّی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتلائیں جو مجھے اس (جنت) کے قریب قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو ان پر عمل کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاف کی بات کہو اور مال سے بچا ہوا دے دو۔“ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کی بات کروں اور نہ ہی اپنا بچا ہوا مال دینے کی استطاعت رکھتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو کھانا کھلا اور سلام عام کر۔“ اس نے کہا: یہ بھی مشکل ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اور ایک مشکیزہ لے اور ایسے گھر والوں کی طرف جا جو ایک دن چھوڑ کر ہی پانی پیتے ہیں، سو تو انہیں پلا، شاید تیرا اونٹ ہلاک نہ ہو اور تیرا مشکیزہ نہ پھٹے، یہاں تک کہ تجھ پر جنت واجب ہو جائے۔“ وہ کہتے ہیں: وہ دیہاتی تکبیر کہتے ہوئے چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نہ تو اس کا مشکیزہ پھٹا اور نہ ہی اس کا اونٹ ہلاک ہوا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7809]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن خزيمه»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7809 in Urdu