السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1650. -- باب: فضل صدقة الصحيح الشحيح
-- باب: تندرست اور مال کی حرص رکھنے والے شخص کے صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7832
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنِ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" لَتُنَبَّأَنَّ، أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَتَخَافُ الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، إِلَّا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ" ⦗٣١٩⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ عُمَارَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بارے میں آگاہ کیے جاؤ گے، تم صدقہ کرو اس حال میں کہ تندرست اور اس کی چاہت کرنے والے ہو، اپنے پاس رکھنے کی خواہش بھی ہو اور محتاجی کا ڈر بھی ہو، تو اس بات کا انتظار نہ کر کہ تیری روح حلق تک پہنچ جائے، پھر تو کہے کہ فلاں کا اتنا، فلاں کا اتنا، خبردار! وہ تو اب فلاں کا ہو چکا ہے۔“ (امام مسلم نے اپنی صحیح میں زہیر بن حرب کے حوالے سے اسے بیان کیا ہے اور امام بخاری نے دیگر واسناد سے بیان کیا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7832]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7832 in Urdu