🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1670. -- باب: ما كان عليه حال الصيام من تحريم الأكل والشرب والجماع بعدما ينام أو يصلي صلاة العشاء الآخرة حتى أحل ذلك إلى طلوع الفجر، وصار الأمر الأول منسوخا
-- باب: روزے کے اس سابقہ حال کا بیان کہ جب آدمی سو جاتا یا عشاء کی نماز پڑھ لیتا تو اس پر کھانا، پینا اور جماع کرنا حرام ہو جاتا تھا، یہاں تک کہ اسے طلوعِ فجر تک حلال کر دیا گیا اور پہلا حکم منسوخ ہو گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7902
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ أُنْزِلَ رَمَضَانُ وَكَانُوا قَوْمًا لَمْ يَتَعَوَّدُوا الصِّيَامَ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَلَيْهِمْ شَدِيدًا، فَكَانَ مَنْ لَمْ يَصُمْ أَطْعَمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥] فَكَانَتِ الرُّخْصَةُ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَأُمِرُوا بِالصِّيَامِ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَفْطَرَ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ لَمْ يَأْكُلْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَجَاءَ عُمَرُ وَأَرَادَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ نِمْتُ فَظَنَّ أَنَّهَا تَعْتَلُّ فَأَتَاهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَرَادَ طَعَامًا، فَقَالُوا: حَتَّى نُسَخِّنَ لَكَ شَيْئًا فَنَامَ فَلَمَّا أَصْبَحُوا نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ فِيهَا {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ} [البقرة: ١٨٧] .
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے اس حدیث کو بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین روزے رکھنے کو کہا، پھر رمضان المبارک کا حکم نازل ہو گیا تو لوگ روزے کی تیاری نہیں کرتے تھے، اس لیے روزے ان کے لیے مشکل ہو گئے۔ پھر جو کوئی روزہ نہ رکھ سکتا تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [سورة البقرة: 185] پھر وہ رخصت صرف مریض اور مسافر کے لیے رہ گئی اور بقیہ کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔
یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ بسا اوقات یہ ہوتا کہ آدمی روزہ افطار کرتا اور کھانے سے پہلے سو جاتا اور وہ آئندہ صبح تک نہ کھاتا، ایسے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور اپنی بیوی سے صحبت کا ارادہ کیا تو اس نے کہا: ”میں تو سو چکی ہوں۔“ انہوں نے سمجھا کہ بہانہ کر رہی ہے تو وہ صحبت کر بیٹھے۔ اور انصار میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کھانا مانگا تو گھر والوں نے کہا: (ٹھہرو) یہاں تک کہ ہم تمہارے لیے کچھ گرم کر دیں، تو وہ سو گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 187] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 7902]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معنيٰ قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7902 in Urdu